6 اشعار

خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے

K͟huddāriyoñ ke khūn ko arzāñ na kar sake

خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے

«خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکے

ہو کر خراب مے ترے غم تو بھلا دیےلیکن غم حیات کا درماں نہ کر سکے

ٹوٹا طلسم عہد محبت کچھ اس طرحپھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے

ہر شے قریب آ کے کشش اپنی کھو گئیوہ بھی علاج شوق گریزاں نہ کر سکے

کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثےہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے

مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولےوہ بھی نشاط روح کا ساماں نہ کر سکے

— ساحر لدھیانوی