5 اشعار

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے

Maiñ zindah hūñ ye mushtahar kījiye

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے

«میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیےمرے قاتلوں کو خبر کیجیے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہےبسر ہو سکے تو بسر کیجیے

ستم کے بہت سے ہیں رد عملضروری نہیں چشم تر کیجیے

وہی ظلم بار دگر ہے تو پھروہی جرم بار دگر کیجیے

قفس توڑنا بعد کی بات ہےابھی خواہش بال و پر کیجیے

— ساحر لدھیانوی