4 اشعار

پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے

Pūñchh kar ashk apnī āñkhoñ se muskurāo to koī baat bane

پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے

«پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنےسر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنے

زندگی بھیک میں نہیں ملتی زندگی بڑھ کے چھینی جاتی ہےاپنا حق سنگ دل زمانے سے چھین پاؤ تو کوئی بات بنے

رنگ اور نسل ذات اور مذہب جو بھی ہے آدمی سے کمتر ہےاس حقیقت کو تم بھی میری طرح مان جاؤ تو کوئی بات بنے

نفرتوں کے جہان میں ہم کو پیار کی بستیاں بسانی ہیںدور رہنا کوئی کمال نہیں پاس آؤ تو کوئی بات بنے

— ساحر لدھیانوی