6 اشعار

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے

Sadiyoñ se insān ye suntā āyā hai

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے

«صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہےدکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایا ہے

ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ نہ دوہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے

جھوٹ تو قاتل ٹھہرا اس کا کیا روناسچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے

پیدائش کے دن سے موت کی زد میں ہیںاس مقتل میں کون ہمیں لے آیا ہے

اول اول جس دل نے برباد کیاآخر آخر وہ دل ہی کام آیا ہے

اتنے دن احسان کیا دیوانوں پرجتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

— ساحر لدھیانوی