4 اشعار

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

Parbatoñ ke peṛoñ par shām kā baserā hai

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے

«پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے

دونوں وقت ملتے ہیں دو دلوں کی صورت سےآسماں نے خوش ہو کر رنگ سا بکھیرا ہے

ٹھہرے ٹھہرے پانی میں گیت سرسراتے ہیںبھیگے بھیگے جھونکوں میں خوشبوؤں کا ڈیرا ہے

کیوں نہ جذب ہو جائیں اس حسیں نظارے میںروشنی کا جھرمٹ ہے مستیوں کا گھیرا ہے

— ساحر لدھیانوی