5 اشعار

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

Sañsār kī har shai kā itnā hī fasānā hai

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے

«سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہےاک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے

یہ راہ کہاں سے ہے یہ راہ کہاں تک ہےیہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نہ جانا ہے

اک پل کی پلک پر ہے ٹھہری ہوئی یہ دنیااک پل کے جھپکنے تک ہر کھیل سہانا ہے

کیا جانے کوئی کس پر کس موڑ پر کیا بیتےاس راہ میں اے راہی ہر موڑ بہانا ہے

ہم لوگ کھلونا ہیں اک ایسے کھلاڑی کاجس کو ابھی صدیوں تک یہ کھیل رچانا ہے

— ساحر لدھیانوی