4 اشعار

سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے

Sañsār se bhāge phirte ho bhagwān ko tum kyā pāo ge

سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے

«سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گےاس لوک کو بھی اپنا نہ سکے اس لوک میں بھی پچھتاؤ گے

یہ پاپ ہے کیا یہ پن ہے کیا ریتوں پر دھرم کی مہریں ہیںہر یگ میں بدلتے دھرموں کو کیسے آدرش بناؤ گے

یہ بھوگ بھی ایک تپسیا ہے تم تیاگ کے مارے کیا جانواپمان رچیتا کا ہوگا رچنا کو اگر ٹھکراؤ گے

ہم کہتے ہیں یہ جگ اپنا ہے تم کہتے ہو جھوٹا سپنا ہےہم جنم بتا کر جائیں گے تم جنم گنوا کر جاؤ گے

— ساحر لدھیانوی