5 اشعار

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

Sazā kā hāl sunā'eñ jazā kī baat kareñ

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں

«سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریں» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںخدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریں

انہیں پتہ بھی چلے اور وہ خفا بھی نہ ہوںاس احتیاط سے کیا مدعا کی بات کریں

ہمارے عہد کی تہذیب میں قبا ہی نہیںاگر قبا ہو تو بند قبا کی بات کریں

ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایاکریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں

وفا شعار کئی ہیں کوئی حسیں بھی تو ہوچلو پھر آج اسی بے وفا کی بات کریں

— ساحر لدھیانوی