7 اشعار

بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے

Bahut Se Khwab Dekhe Hain, Kabhi Sheron Mein Dhalen Ge

بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے

«بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گےکوئی چہرہ تراشیں گے ، کوئی صورت نکالیں گے

ابھی تو پاؤں کے نیچے زمین محسوس ہوتی ہےجہاں یہ ختم ہووے گی ، وہیں ہم گھر بنا لیں گے

" یہی ہے نا، تمہیں ہم سے بچھڑ جانے کی جلدی ہےکبھی ملنا، تمھارے مسئلے کا حل نکالیں گے "

ابھی چُپکے سے ہجر آثار لمحہ آئے گا اور پھرتم اپنی راہ چل دو گے ہم اپنا راستہ لیں گے

جو اپنے خون سے اپنی گواہی خاک پر لکھ دےہم ایسے آدمی کو آسمانوں پر اٹھا لیں گے

میں دیوار ِ ابد کی سمت سے مُڑ کر دیکھتا ہوں جبصدائے غیب آتی ہے تمہیں واپس بلا لیں گے

ہمارے ہاتھ جس کے قتل کی سازش میں شامل تھے”سلیم” اُس شخص کا قاتل سے ہم کیا خون بہا لیں گے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں