9 اشعار

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

Milna Na Milna Ek Bahana Hai Aur Bas

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس

«ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس

لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھےاک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس

مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاںمٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس

سوئے ہوئے تو جاگ ہی جائیں گے ایک دنجو جاگتے ہیں ان کو جگانا ہے اور بس

تم وہ نہیں ہو جن سے وفا کی امید ہےتم سے مری مراد زمانہ ہے اور بس

پھولوں کو ڈھونڈتا ہوا پھرتا ہوں باغ میںباد صبا کو کام دلانا ہے اور بس

آب و ہوا تو یوں بھی مرا مسئلہ نہیںمجھ کو تو اک درخت لگانا ہے اور بس

نیندوں کا رت جگوں سے الجھنا یوں ہی نہیںاک خواب رائیگاں کو بچانا ہے اور بس

اک وعدہ جو کیا ہی نہیں ہے ابھی سلیمؔمجھ کو وہی تو وعدہ نبھانا ہے اور بس

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں