9 اشعار

فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے

Fareb-e-jubba-o-dastaar khatm hone ko hai

فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے

«فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

فریبِ جبہ و دستار ختم ہونے کو ہےلگا ہواہے جو دربار، ختم ہونے کو ہے​

​کہانی کار نے اپنے لیے لکھا ہے جسےکہانی میں وہی کِردار ختم ہونے کو ہے​

سمجھ رہے ہوکہ تم سے ہے گرمئ بازارسو اب یہ گرمئ بازار ختم ہونے کو ہے​

مسیحا، کیسا تجھے لگ رہا ہے، کچھ تو بتاکہ تیرے سامنے بیمار ختم ہونے کو ہے​

برہنہ ہوتی چلی جا رہی ہے یہ دُنیاکہیں گلی، کہیں دیوار ختم ہونے کو ہے​

یہ کیا ہوا تجھے تسلیم کرنے والوں میںسُنا ہے، جراتِ اظہار ختم ہونے کو ہے​

جو مجھ پہ بیت گئی وہ خبر نہیں مِلتیکہ اب تو سارا ہی اخبار ختم ہونے کو ہے​

اب اس کے بعد نئی زندگی کا ہے آغازیہ زندگی تو مرے یار ختم ہونے کو ہے​

سلیم کثرتِ اشیا کی گرد میں آخرغرُورِ درہم و دینار ختم ہونے کو ہے​

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں