7 اشعار

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

Qurbatein hote hue bhi faaslon mein qaid hain

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

«قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں

کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھیکس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں

شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھولاور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں

پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کیایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں

یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دنپھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں

اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوامنزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں

کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔسر پھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں