زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
کلام: سلیم کوثر
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیںشہر کے شہر اسی غم میں ٹھکانے لگ جائیں
جس کو ہر سانس میں محسوس کِیا ہے ہم نےہم اسے ڈھونڈنے نکلیں تو زمانے لگ جائیں
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیںشہر کے شہر اسی غم میں ٹھکانے لگ جائیں
جس کو ہر سانس میں محسوس کِیا ہے ہم نےہم اسے ڈھونڈنے نکلیں تو زمانے لگ جائیں
فریبِ جبہ و دستار ختم ہونے کو ہےلگا ہواہے جو دربار، ختم ہونے کو ہے
کہانی کار نے اپنے لیے لکھا ہے جسےکہانی میں وہی کِردار ختم ہونے کو ہے
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھیکس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں