ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گاغزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا
مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےکہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گاغزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا
مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےکہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا
تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیںموسمِ ہجر ہے یہ کوئی کرونا تو نہیں
میں بدلتے ہوئے حالات کا آئینہ ہوںہنسنے والے تُو مجھے دیکھ کے رونا تو نہیں
تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کواداسی ہِجر میں منہ، نوچتے ہوئے گزری
کسی کے پاس میسر تھے یار پورے تمکسی کی شام٬ تمہیں سوچتے ہوئے گزری !
کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگچشم گریہ میں رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ
کب سے راہوں میں تری گرد بنے بیٹھے ہیںتجھ سے ملنے کے لیے وقت کو ٹالے ہوئے لوگ
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہیہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھیاور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ