جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
کلام: سلیم کوثر
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہیہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھیاور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہیہاں اک شخص رہتا تھا، کہاں ہے وہ
یہاں کشتی کناروں کو ملاتی تھیاور اک دریا بھی بہتا تھا، کہاں ہے وہ