9 اشعار

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

Kahin tum apni qismat ka likha tabdeel kar lete

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے

«کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتےتو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے

اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میںمرض بڑھنے سے پہلے ہی دوا تبدیل کر لیتے

تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتابہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھیگھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے

تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا تو پھر شایدمکان اپنا وہی رکھتے پتا تبدیل کر لیتے

وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں جو پہلے بھیکبھی چہرہ کبھی اپنی قبا تبدیل کر لیتے

جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتیجو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے ورنہگواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے

بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دل سادہوہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں