8 اشعار

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

Main khayal hoon kisi aur ka mujhe sochta koi aur hai

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

«میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی» میں 20 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 4 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوںمیں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگیمیں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگرتو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیںتری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیںمرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سےجنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکیتو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں