7 اشعار

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

Chashm-e-Be Khwab Hui Shehar Ki Veerani Se

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے

«چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے فخر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے

پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھیاور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے

ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیاآئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے

اب کے ہے لب آب ہی مر جائیں گےپیاس ایسی ہے کہ بجھتی ہی نہیں پانی سے

آنکھ پہچانتی ہے لوٹنے والوں کو مگرکون پوچھے گا مری بے سر و سامانی سے

یوں ہی دشمن نہیں در آیا مرے آنگن میںدھوپ کو راہ ملی پیڑ کی عریانی سے

کوئی بھی چیز سلامت نہ رہے گھر میں سلیمؔفائدہ کیا ہے بھلا ایسی نگہبانی سے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں