اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے
کلام: سلیم کوثر
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے
اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہصورت حال کے لیے واقف حال چاہئے
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئےتازہ غزل کے واسطے تازہ خیال چاہئے
اے مرے چارہ گر ترے بس میں نہیں معاملہصورت حال کے لیے واقف حال چاہئے
پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیںاب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں
مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیالاس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں
جھلیا عشق کمانا اوکھاکسے نوں یار بنانا اوکھا
پیار پیار تے ہر کوئی بولےکرکے پیار نبھانا اوکھا