3 اشعار

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

Yaad Kahan Rakhni Hai Tera Khwab Kahan Rakhna Hai

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے

«یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہےدل میں یاد پھر آنکھوں میں مہتاب کہاں رکھنا ہے

وہ کہتا ہے آخری باب عشق مکمل کر لیںاور میں سوچ رہا ہوں پہلا باب کہاں رکھنا ہے

حسن کی یکتائی کا بس اتنا احساس ہے مجھ کوکانٹوں کی ترتیب میں ایک گلاب کہاں رکھنا ہے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں