7 اشعار

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے

Bas Ik Rasta Hai Ik Aawaz Aur Ek Saya Hai

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے

«بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے

بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پلیہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے

ادھر یہ دل ابھی تک ہے اسیر وحشت صحراادھر اس آنکھ نے چاروں طرف پہرہ بٹھایا ہے

تمہیں کیسے بتائیں جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہےنہ تم نے آئنہ دیکھا نہ آئینہ دکھایا ہے

ہمیں اک اسم اعظم یاد ہے وہ ساتھ ہے، ہم نےکئی بار آسماں کو ان زمینوں پر بلایا ہے

کہاں تک روکتے آنکھوں میں ابر و باد ہجراں کواب آئے ہو کہ جب یہ شہر زیر آب آیا ہے

سلیمؔ اب تک کسی کو بد دعا دی تو نہیں لیکنہمیشہ خوش رہے جس نے ہمارا دل دکھایا ہے

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں