7 اشعار

زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں

Zakhmi Ehsaas Agar Hum Bhi Dikhane Lag Jaayen

زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں

«زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں» سلیم کوثر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیںشہر کے شہر اسی غم میں ٹھکانے لگ جائیں

جس کو ہر سانس میں محسوس کِیا ہے ہم نےہم اسے ڈھونڈنے نکلیں تو زمانے لگ جائیں

ابر سے اب کے ہواؤں نے یہ سازش کی ہےخشک پیڑوں پہ ثمر پھر سے نہ آنے لگ جائیں

کاش، اب کے تِرے آنے کی خبر سچی ہوہم منڈیروں سے پرندوں کو اڑانے لگ جائیں

شعر کا نشہ جو اترے کبھی اک پَل کے لئےزندگی ہم بھی تِرا قرض چکانے لگ جائیں

سوچتے یہ ہیں تِرا نام لکھیں آنکھوں پرچاہتے یہ ہیں تجھے سب سے چھپانے لگ جائیں

اس طرح دن کے اجالے سے ڈرے لوگ سلیمؔشام ہوتے ہی چراغوں کو بجھانے لگ جائیں

— سلیم کوثر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں