6 اشعار

اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیں

Ik be-naam si khoj hai dil ko jis ke asar mein rehte hain

اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیں

«اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

اک بے نام سی کھوج ہے دل کو جس کے اثر میں رہتے ہیںہم کاغذ کی ناؤ بنا کر روز سفر میں رہتے ہیں

ہونے اور نہ ہونے کا اک برزخ ہے ہم جس میں ہیںجس میں شام گھلی رہتی ہے ایسی سحر میں رہتے ہیں

اپنا تو اب اس دنیا سے کچھ ایسا ہی ناتا ہےجیسے نیند میں چلنے والے خواب نگر میں رہتے ہیں

پستی اور بلندی کیا اب اپنے خواب ہیولے بھیگرد کی صورت اڑتے ہیں اور راہ گزر میں رہتے ہیں

نیند نگر میں جا کر حور سے پہروں باتیں ہوتی ہیںکیسے کیسے خواب مرے دیوار و در میں رہتے ہیں

ایک ہوا کے جھونکے ہی سے لرز گئے ہیں بام و درشبنمؔ ایسے لگتا ہے ہم ریت کے گھر میں رہتے ہیں

— شبنم شکیل