6 اشعار

بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیں

Base hue to hain lekin daleel koi nahin

بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیں

«بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بسے ہوئے تو ہیں لیکن دلیل کوئی نہیںکچھ ایسے شہر ہیں جن کی فصیل کوئی نہیں

کسی سے کس طرح انصاف مانگنے جاؤںعدالتیں تو بہت ہیں عدیل کوئی نہیں

سبھی کے ہاتھوں پہ لکھا ہے ان کا نام و نسبقبیل دار ہیں سب بے قبیل کوئی نہیں

ہے دشت غم کا سفر اور مجھے خبر بھی ہےکہ راستے میں کہیں سنگ میل کوئی نہیں

ابھی سے ڈھونڈ کے رکھو نظر میں راہ مفریہاں ہے پیاس سے مرنا سبیل کوئی نہیں

مری شناخت الگ ہے تری شناخت الگیہ زعم دونوں کو اپنا مثیل کوئی نہیں

— شبنم شکیل