6 اشعار

آنکھ تر ہو تو نظر آئے نظارہ اس کا

Aankh tar ho to nazar aaye nazzara us ka

آنکھ تر ہو تو نظر آئے نظارہ اس کا

«آنکھ تر ہو تو نظر آئے نظارہ اس کا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

آنکھ تر ہو تو نظر آئے نظارہ اس کاربط اسی موج میں ممکن ہے ہمارا اس کا

دل سے دل تک اسی خوشبو کا عمل جاری ہےدل سے دل تک جو علاقہ ہے وہ سارا اس کا

روزن شب سے ہٹاتا ہوں میں پردہ جب بھیمیرا زینہ اتر آتا ہے ستارہ اس کا

کسی لمحے میں رواں موج تپاں ہے اس کیکسی ساعت میں چمکتا ہے کنارہ اس کا

ہمیں اندازہ ہے اس شخص کی حیرانی کاہم جو آئینے میں کرتے ہیں نظارہ اس کا

دیدۂ نم تو اسے نقد نظر ہے گویاکبھی ہنستا ہے تو بڑھتا ہے خسارہ اس کا

— شاہین عباس