7 اشعار

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں

Naam wale hain na yeh zakhm nishaan wale hain

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں

«نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیںہم نباہیں گے کہ ہم لوگ زباں والے ہیں

اب جو گھر ان پہ گرا ہے تو کھلے ہیں ورنہیہ مکیں لگتا نہیں تھا کہ مکاں والے ہیں

ٹھیک گزرے نہیں بازار سے شاید ہم لوگیہ جو چھینٹے ہیں یہ سب سود و زیاں والے ہیں

اتنی آسانی پریشان بھی کر سکتی ہےہم یقیں والے ہیں صاحب نہ گماں والے ہیں

ہم اگر رک گئے دنیا تو کہاں سنبھلیں گےہمیں جانے دے کہ ہم بار گراں والے ہیں

وہ زمانہ بدری ہجر میں دیکھی ہے کہ بسہم سمجھتے تھے کہ ہم کون و مکاں والے ہیں

دیکھنے والے ہمارے بھی کوئی خوش تو نہیںہم وہ جھونکے ہیں جو خاک گزراں والے ہیں

— شاہین عباس