8 اشعار

صبح کو تر کیا گیا شام کو نم کیا گیا

Subh ko tar kiya gaya shaam ko nam kiya gaya

صبح کو تر کیا گیا شام کو نم کیا گیا

«صبح کو تر کیا گیا شام کو نم کیا گیا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

صبح کو تر کیا گیا شام کو نم کیا گیاتب کہیں خوش ہوا گیا تب کہیں غم کیا گیا

خواب کے ٹوٹنے پہ آج کرنا پڑا ہے احتجاجبولنا کم کیا گیا دیکھنا کم کیا گیا

کام پہ بھیجنے سے قبل ہم پہ ہوا بہت سا کامہم کو بدن کیا گیا ہم کو قدم کیا گیا

مجھ کو بتا دیا گیا زندگی کیا ہے موت کیامیرے بدن سے ایک اور روح کو کم کیا گیا

سمتوں کا اس قدر خیال سمتوں کا اس قدر ملالچاروں کے بیچ بیٹھ کر چاروں کا غم کیا گیا

وصل رہا نہ تم رہے ہجر رہا نہ ہم رہےتم کو وہ تم کیا گیا ہم کو وہ ہم کیا گیا

ہم کو اٹھا لیا گیا خوف تک اور خواب تکپتے بڑھا دئے گئے پھولوں کو کم کیا گیا

میرے ورق پہ ایک اور بوند گری لہو کی بوندمیرے قلم سے ایک اور سر کو قلم کیا گیا

— شاہین عباس