8 اشعار

اے مرے ہم کنار جسم چل مجھے بے کنار کر

Ae mere ham-kinār jism chal, mujhe be-kinār kar

اے مرے ہم کنار جسم چل مجھے بے کنار کر

«اے مرے ہم کنار جسم چل مجھے بے کنار کر» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

اے مرے ہم کنار جسم چل مجھے بے کنار کرمیں تجھے مشتہر کروں تو مرا اشتہار کر

دونوں کو یاد تو رہے بیٹھے ہیں آر پار ہمبیچ کے اس چراغ کو دیکھ تو لیں پکار کر

پانی یہاں سے چل دیا تجھ کو پکارتے ہوئےبیٹھا اب اپنے حوض پر پانی کا انتظار کر

جسم سے غم نکل گیا کپڑوں کا دم نکل گیااور مجھے رہائی دے اور مرا شکار کر

ہجر کے ہاتھ کھل کے دیکھ وصل کے ساتھ مل کے دیکھایک سے اختیار مانگ ایک کو اختیار کر

رات بچی نہ دن بچے وقت بہت سا بچ گیاوعدے کی رات کاٹ کر وعدے کا دن گزار کر

شہر میں داخلے کی شرط جسم نہیں تھا روح تھیجسم کا جسم رکھ دیا سر سے کہیں اتار کر

خاک بھی جم گئی مری راکھ بھی تھم گئی مریلوٹوں گا آج دیر سے تھوڑا سا انتظار کر

— شاہین عباس