7 اشعار

نام اور نقش کی سرحد سے ملا دے گا مجھے

Naam aur naqsh kī sarhad se milā degā mujhe

نام اور نقش کی سرحد سے ملا دے گا مجھے

«نام اور نقش کی سرحد سے ملا دے گا مجھے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

نام اور نقش کی سرحد سے ملا دے گا مجھےخود مرا خواب کبھی خواب بنا دے گا مجھے

یہ ستارہ سا جو دل ہے مری دریافت تمامجب تلک روشنی دیتا ہے دعا دے گا مجھے

یہ الگ بات کہ میں گوش بر آواز نہیںپھر بھی کچھ دیر تو آئینہ صدا دے گا مجھے

دل کہ بڑھتا چلا آتا ہے نظر کی جانبپھر کسی کار محبت پہ لگا دے گا مجھے

جسم اکتایا اگر ایک سی وحشت سے تو دلایک دشت اور اسی دشت میں لا دے گا مجھے

جس سفینے میں شب و روز کے آ بیٹھا ہوںموج میں آیا اگر موج بنا دے گا مجھے

دل میں دیوار کے اٹھنے سے یہ شور اٹھا ہےیہ وہ سایہ ہے جو چپ چاپ جلا دے گا مجھے

— شاہین عباس