6 اشعار

منظر جاں کا سفر ہے پس منظر کی طرف

Manzar-e-jaan ka safar hai pas-manzar ki taraf

منظر جاں کا سفر ہے پس منظر کی طرف

«منظر جاں کا سفر ہے پس منظر کی طرف» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

منظر جاں کا سفر ہے پس منظر کی طرفان دنوں درد کا در کھلتا ہے اندر کی طرف

پھر مرے نقش کف پا سے رہائی پا کرخاک پا مائل پرواز ہوئی سر کی طرف

پچھلے پانی ابھی آنکھوں نے سنبھالے نہیں تھےدل نکل آیا ہے اک اور سمندر کی طرف

باہر آوازیں ہی آوازیں ہیں اور کچھ بھی نہیںخامشی کھینچ رہی ہے مجھے اندر کی طرف

اس قبیلے میں عجب طرز عداوت ہے کہ ہےمیرے پرتو کا نشانہ مرے پیکر کی طرف

جانے کس سمت میں لے جائیں مجھے گھر کے چراغاک ستارہ مجھے لے آیا تو ہے گھر کی طرف

— شاہین عباس