6 اشعار

اگر اس کوہ ندا پر سے اشارہ ہو جائے

Agar is koh-e-nidā par se ishāra ho jā'e

اگر اس کوہ ندا پر سے اشارہ ہو جائے

«اگر اس کوہ ندا پر سے اشارہ ہو جائے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اگر اس کوہ ندا پر سے اشارہ ہو جائےعمر چپ چاپ بھی گزرے تو گزارہ ہو جائے

مجھ میں آباد کئی ایک ستارے ہیں تو کیامجھ سے آباد کوئی ایک ستارہ ہو جائے

شجر جاں سے اڑا کر میں جنہیں بھول گیاان پرندے سے اگر ربط دوبارہ ہو جائے

کسے معلوم اسی درد کی رفتار کے ساتھدل پھر اک جست بھرے اور تمہارا ہو جائے

کشتیاں موج بہ موج آتی رہیں جاتی رہیںایسا آباد مرے دل کا کنارہ ہو جائے

روز و شب اپنے ہیں جس شخص کے وقت اپنا ہےکیسے ممکن وہ کسی شام ہمارا ہو جائے

— شاہین عباس