6 اشعار

سخن کچھ ایسے لہو کے لبوں سے نکلے ہیں

Sukhan kuchh aise lahu ke laboñ se nikle haiñ

سخن کچھ ایسے لہو کے لبوں سے نکلے ہیں

«سخن کچھ ایسے لہو کے لبوں سے نکلے ہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

سخن کچھ ایسے لہو کے لبوں سے نکلے ہیںخود آگہی میں ہم اپنی حدوں سے نکلے ہیں

کوئی بتاؤ یہ نیرنگیٔ نمو کیا ہےچبھے جو پاؤں میں کانٹے سروں سے نکلے ہیں

یہ دھوپ ایسی کہ ہم نقش جس پہ نام بنامیہ دشت وہ ہیں جو اپنے گھروں سے نکلے ہیں

ہم اور محور جاں کا یہ دور خاک بہ خاکستارہ گر بھی کبھی گردشوں سے نکلے ہیں

شبیہ گر ہیں کچھ ایسے کہ ہم برون بدنبس ایک ضو کو لئے سو رخوں سے نکلے ہیں

یہ تہ بہ تہ جو زمانے زمیں کے اندر ہیںسنور سنور کے ہم ان کی صفوں سے نکلے ہیں

— شاہین عباس