6 اشعار

کسی اپنی زمیں پر اور کسی اپنے زمانے میں

Kisī apnī zamīñ par aur kisī apne zamāne mein

کسی اپنی زمیں پر اور کسی اپنے زمانے میں

«کسی اپنی زمیں پر اور کسی اپنے زمانے میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کسی اپنی زمیں پر اور کسی اپنے زمانے میںمری تو عمر گزری ہے تجھے منظر پہ لانے میں

نظر کی حیرتیں آخر کو رخصت ہو گئیں اور میںاکیلا رہ گیا ہوں وقت کے آئینہ خانے میں

کسی کے آنسوؤں نے جیسے مجھ کو باندھ رکھا ہوعجب سی روک ہے ان پانیوں سے لوٹ آنے میں

چراغ دل ہوں اور تیرے نگہ داروں میں شامل ہوںسر طاق نظر روشن ہوں بے خوابی کے خانے میں

یہ سانس اک شعلۂ آئندہ کی لپٹوں میں پیدا سانسبرا کیا ہے اگر آزاد ٹھہرے آنے جانے میں

سکوت دل بتا تو یہ در و بست نوا کیا ہےترا حصہ کہاں تک ہے مرا لہجہ بنانے میں

— شاہین عباس