4 اشعار

بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتی

Badan kī saakh to poshāk se nahīñ bantī

بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتی

«بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

بدن کی ساکھ تو پوشاک سے نہیں بنتیکہانی حرف ہوس ناک سے نہیں بنتی

مرے وجود میں آنے کا تذکرہ ہی کیامیں جانتا ہوں مری چاک سے نہیں بنتی

میں خواب زاد ہوں اور خواب ہی سے بھاگتا ہوںمیں خاک زاد ہوں اور خاک سے نہیں بنتی

گیا جو موج میں اس کی وہ ڈوبتا ہی گیااس آنکھ کی کسی پیراک سے نہیں بنتی

— شاہین عباس