6 اشعار

شعلۂ جاں مرے پیکر سے نکل آیا ہے

Sho'la-e-jaa.n mire paikar se nikal aaya hai

شعلۂ جاں مرے پیکر سے نکل آیا ہے

«شعلۂ جاں مرے پیکر سے نکل آیا ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

شعلۂ جاں مرے پیکر سے نکل آیا ہےوہ جو نکلا ہی نہ تھا گھر سے نکل آیا ہے

روز و شب ایک نئے وقت نگر کی دھن میںدل شب و روز کے چکر سے نکل آیا ہے

آج کی رات چراغوں کے بہکنے کا سبباک ستارہ ہے جو محور سے نکل آیا ہے

خواب ہر آن سلامت کہ انہیں کے دم سےسب کا سب زاد سفر گھر سے نکل آیا ہے

ہم کہ جس عالم نادیدہ کو کم جانتے تھےکام اسی دور کے منظر سے نکل آیا ہے

دل نے دیوار اٹھا دی ہے برا ہو دل کاایک گھر اور اسی گھر سے نکل آیا ہے

— شاہین عباس