7 اشعار

بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے

Badan ka kaam thoda hai magar mohlat zyada hai

بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے

«بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

بدن کا کام تھوڑا ہے مگر مہلت زیادہ ہےسو جو غفلت زیادہ تھی وہی غفلت زیادہ ہے

ہمیں اس عالم ہجراں میں بھی رک رک کے چلنا ہےانہیں جانے دیا جائے جنہیں عجلت زیادہ ہے

نہ جانے کب کسی چلمن کا ہم نقصان کر بیٹھیںہمیں چہرا کشائی کی ذرا رخصت زیادہ ہے

کبھی میں خود زیادہ ہوں تن تنہا کی وحدت میںکبھی میری ضرورت سے مری وحدت زیادہ ہے

تجھے حلقہ بہ حلقہ کھینچتے پھرتے ہیں دنیا میںسو اے زنجیر پا یوں بھی تری شہرت زیادہ ہے

یہ دل باہر دھڑکتا ہے یہ آنکھ اندر کو کھلتی ہےہم ایسے مرحلے میں ہیں جہاں زحمت زیادہ ہے

سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف الگ سے ہوہمارا مسئلہ یہ ہے ہمیں حیرت زیادہ ہے

— شاہین عباس