7 اشعار

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں

Kuchh aane walon ki taakheer se tang aa gaye hain

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں

«کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا شاہین عباس» میں 23 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیںیہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں

کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیر پا سےکئی عالم مری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں

تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں سانس لے لیںہم اس تصویر میں تصویر سے تنگ آ گئے ہیں

انہیں فرشوں پہ تکیہ تھا مگر یہ فرش بھی توہمارے نالۂ شبگیر سے تنگ آ گئے ہیں

مچانوں میں سے آنسو گر رہے ہیں خاک اوپرشکاری ہیں کہ جو تقدیر سے تنگ آ گئے ہیں

عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پرگلی کوچے اب اس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں

وضاحت کرتے کرتے زندگی پر مرتے مرتےمسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں

— شاہین عباس

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں