5 اشعار

دھوپ اس پار کی اس پار بنانے کے لیے

Dhoop us paar ki us paar banane ke liye

دھوپ اس پار کی اس پار بنانے کے لیے

«دھوپ اس پار کی اس پار بنانے کے لیے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

دھوپ اس پار کی اس پار بنانے کے لیےرہ میں اک دن ہے لگاتار بنانے کے لیے

کتنی آنکھیں ہیں جو خاموش خلل ڈالتی ہیںمیری آواز کو بے کار بنانے کے لیے

کوئی شے اور بھی ہوتی ہے کہ بس ہوتی ہےگھر ہی کافی نہیں گھر بار بنانے کے لیے

چلتے چلتے یوںہی اک بار پلٹ کر دیکھاخود کو تاریخ کا حق دار بنانے کے لیے

ہمیں کیا کیا نہیں پھرنا پڑا اندر باہراپنے انکار کو انکار بنانے کے لیے

— شاہین عباس