7 اشعار

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

Bante bante apne pech-o-kham bane

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے

«بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنے» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

بنتے بنتے اپنے پیچ و خم بنےتو بنا پھر میں بنا پھر ہم بنے

ایک آنسو تھا گرا اور چل پڑاایک عالم تھا سو دو عالم بنے

اک قدم اٹھا کہیں پہلا قدمخاک اڑی اور اپنے سارے غم بنے

اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سناتب کہیں جا کر یہ زیر و بم بنے

آنکھ بننے میں بہت دن لگ گئےدیکھیے کب آنکھ اندر نم بنے

زخم کو بے رہ روی میں رہ ملیخون کے چھینٹے اڑے عالم بنے

ہم کہاں تھے اس سمے اس وقت جبتیرے اندر کے یہ سب موسم بنے

— شاہین عباس