13 اشعار

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

Khud mein utrein to palaṭ kar wapas aa sakte nahin

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں

«خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیںورنہ کیا ہم اپنی گہرائی کو پا سکتے نہیں

خوشبوئیں کپڑوں میں نادیدہ چمن زاروں کی ہیںہم کہاں سے ہو کے آئے ہیں بتا سکتے نہیں

ہم نے ان گلیوں میں چلنے کی رعایت لی ہے بسدیکھ سکتے ہیں ہمیں یہ گھر بسا سکتے نہیں

یہ بھرم منظر کا بھی ہے اور پس منظر کا بھیآخری نقش تماشا ہے مٹا سکتے نہیں

نقشۂ نابود اٹھائے پھر رہے ہیں شہر شہرپھر رہے ہیں اور بس آگے بتا سکتے نہیں

ہم کوئی پردہ مکمل کر رہے ہیں دیر سےآنکھ چاہیں بھی تو تجھ پر سے ہٹا سکتے نہیں

زندگی ہم تیری جانب آ رہے ہیں ایک ساتھایک ساتھ آنے کا مطلب ہے کہ آ سکتے نہیں

ساری گرہیں کھول کر بیکار ہو بیٹھے تو ہیںاب لگاتے ہیں دوبارہ اور لگا سکتے نہیں

انتظاری ہیں سو بام و در پہ بھاری بھی تو ہیںرخنے بھر سکتے نہیں پردے گرا سکتے نہیں

الوداعی اک چراغاں اور پھر رخصت ہمیںاب مزید اس روشنی پر داد پا سکتے نہیں

رہتے رہتے رہ نہ جائیں لوگ اس تصویر کےہم قدم اس کے ہیں جس کے ساتھ جا سکتے نہیں

ہاتھ سے نکلے ہوئے نا وصف ناوقتوں کے ہمہاتھ آنا چاہتے ہیں اور آ سکتے نہیں

تیری جانب سے اٹھا سکتے ہیں گر پاؤں تو کیاتیری جانب سے ہم اپنی خاک اڑا سکتے نہیں

— شاہین عباس