6 اشعار

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

Pehle to mitti ka aur pani ka andaza hua

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

«پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہواپھر مجھے اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھیتجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا

عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خود پر کئےعمر بھر میں عالم فانی کا اندازہ ہوا

اک زمانے تک بدن بے خواب بے آداب تھےپھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا

تیرے ہاتھوں جل اٹھے ہم تیرے ہاتھوں جل بجھےہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہوا

صورتیں بگڑیں تو اپنی حالتوں میں آئے ہمآئینہ ٹوٹا تو حیرانی کا اندازہ ہوا

— شاہین عباس