7 اشعار

بجھتے ہوئے چراغ پہ ڈالی ہے روشنی

Bujhte hue charagh pe dali hai roshni

بجھتے ہوئے چراغ پہ ڈالی ہے روشنی

«بجھتے ہوئے چراغ پہ ڈالی ہے روشنی» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

بجھتے ہوئے چراغ پہ ڈالی ہے روشنیبنتی نہیں تھی اور بنا لی ہے روشنی

دریا غروب ہونے چلا تھا کہ آج راتغرقاب کشتیوں نے اچھالی ہے روشنی

اپنی نشست چھوڑ کے واں رکھ دیا چراغمیں نے زمین دے کے بچا لی ہے روشنی

میں نے کنار شام گزاری ہے ایک عمرمیں جانتا ہوں ڈوبنے والی ہے روشنی

کیا راکھ گر رہی ہے نظر کی منڈیر سےخالی دیا ہے اور خیالی ہے روشنی

اس بار تیرے خواب میں رکھا ہے اپنا خواباس بار روشنی میں سنبھالی ہے روشنی

آنکھوں میں جمع کرتے تھے ہم دن بھی رات بھیاب کیا کریں جو اتنی بڑھا لی ہے روشنی

— شاہین عباس