7 اشعار

دل ہو چراغ ہو کہ ستارہ کوئی تو ہو

Dil ho charagh ho ke sitara koi to ho

دل ہو چراغ ہو کہ ستارہ کوئی تو ہو

«دل ہو چراغ ہو کہ ستارہ کوئی تو ہو» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دل ہو چراغ ہو کہ ستارہ کوئی تو ہوقائم مقام یعنی تمہارا کوئی تو ہو

کب شور سا اٹھے گا کب اٹھیں گی انگلیاںہم ہیں بھی اور نہیں بھی اشارہ کوئی تو ہو

اک سرمئی اچھال ہو ایسی کہ جیسے شامدن ڈوبتا ہے دن کا سہارا کوئی تو ہو

تیری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں مگرتیری طرح سے یاد دوبارہ کوئی تو ہو

دو آنسوؤں میں ایک تو مانیں کہ ہے جو ہےدو پانیوں میں پانی گوارہ کوئی تو ہو

ٹھوکر ہی جھوٹ موٹ کی کھاؤں ٹھہر تو جاؤںاب اس گماں گزر کا کنارہ کوئی تو ہو

دل ایسے ایک دل کی بنا اور بھی رکھیںیعنی ہمارے بعد ہمارا کوئی تو ہو

— شاہین عباس