7 اشعار

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر

Chaar simton mein nazar rakhta hoon main charon par

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر

«چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پرتیر کب لوٹ کے آئیں گے کماں داروں پر

صبح اٹھے تو قدم کوئلہ تھے اور ہم تھےنیند میں چلتے رہے ہجر کے انگاروں پر

داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہوتا تھااب وہاں شام اتر آتی ہے کرداروں پر

نقش عبرت کا سب اسباب اٹھایا خود ہیہم نے یہ کام بھی چھوڑا انہیں دیواروں پر

سایہ داری کی روایت بھی کہاں آ پہنچیموج خوں چھاؤں کئے رکھتی ہے تلواروں پر

اب کھلا خواب میں کچھ خواب ملاتا تھا میںخاک اڑاتا تھا میں سیاروں کی سیاروں پر

رات کے ٹوٹتے تاروں میں ہمیں رکھا گیاہمیں پرکھا گیا گرتے ہوئے معیاروں پر

— شاہین عباس