6 اشعار

دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن

Dekhna hai kab zameen ko khaali kar jaata hai din

دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن

«دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دن» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

دیکھنا ہے کب زمیں کو خالی کر جاتا ہے دناس قدر آتا نہیں ہے جس قدر جاتا ہے دن

منتشر چلیے کہ یوں بازار بھر جاتا تو ہےمشتہر کیجے کہ پھر اچھا گزر جاتا ہے دن

جب ذرا رد و بدل ہوتا ہے اس تعمیر میںباہر آ جاتی ہے رات اندر اتر جاتا ہے دن

دن کی اپنی مستقل کوئی نہیں تاریخ دردزخم پر جاتا تھا اور اب داغ پر جاتا ہے دن

اچھی گنجائش نکل آتی ہے شام اور شور کیجب کھنکتے خالی انسانوں سے بھر جاتا ہے دن

جاتے جاتے چھوڑ جاتا ہے مرے دل پر لکیردو اندھیروں میں مجھے تقسیم کر جاتا ہے دن

— شاہین عباس