7 اشعار

در بنا بیٹھا ہوں دیوار بنا بیٹھا ہوں

Dar bana baiTha hoon deewaar bana baiTha hoon

در بنا بیٹھا ہوں دیوار بنا بیٹھا ہوں

«در بنا بیٹھا ہوں دیوار بنا بیٹھا ہوں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

در بنا بیٹھا ہوں دیوار بنا بیٹھا ہوںاور سمجھتا ہوں کہ گھر بار بنا بیٹھا ہوں

اٹھتا جاتا ہے ستارے پہ ستارہ اور میںوہی بے دار کا بے دار بنا بیٹھا ہوں

کس ملاقات کی تیاری ہے اور کب سے ہےکچھ گرفتار گرفتار بنا بیٹھا ہوں

کہیں شعلہ ہی رکا ہے نہ کہیں راکھ مریمیں یہ سب منزلیں بے کار بنا بیٹھا ہوں

ٹوٹ جاتا ہے یہ لمحہ اسے جیسے بھی بناؤںبیٹھتے اٹھتے کئی بار بنا بیٹھا ہوں

خود کو بھگتایا ہے اک شخص کو نمٹایا ہےیہ جو انسان سا ناچار بنا بیٹھا ہوں

نہ میں جاتا ہوں یہاں سے نہ میں آتا ہوں یہاںاس گلی میں عجب آزار بنا بیٹھا ہوں

— شاہین عباس