8 اشعار

تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میں

Tum mere andar the aur banta raha bahar se main

تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میں

«تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میں» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میںباز آیا زندگی اور موت کے چکر سے میں

وقت نامی غم مرے رستے کا پتھر تھا کبھیاب یہ پتھر بھاگتا ہے مجھ سے اور پتھر سے میں

پھر مجھے رک رک کے کہنا پڑ رہا ہے ماجراپھر نمٹ کر آ رہا ہوں خاک و خاکستر سے میں

کھو بھی سکتا ہے توازن ڈھ بھی سکتا ہے وجودوقت ہوں باہر سے میں نا وقت ہوں اندر سے میں

اب تماشہ طے سمجھیے ہر گلی کے موڑ پرشام تک کے خواب لے کر چل پڑا ہوں گھر سے میں

باہر آیا ہوں یہ ہجرت عام ہجرت تو نہیںرات دن اپنے اٹھا لایا ہوں سب اندر سے میں

خاک میں دھنستے ہوئے اور خواب میں پھنستے ہوےآسماں کو ان دنوں روکے ہوے ہوں سر سے میں

سارے دروازے مرے ہیں ساری دیواریں مریایک منظر کھولتا ہوں دوسرے منظر سے میں

— شاہین عباس