7 اشعار

درد کی دھوپ میں آ بیٹھیں تو جانا ہی نہ ہو

Dard ki dhoop mein aa baithen to jaana hi na ho

درد کی دھوپ میں آ بیٹھیں تو جانا ہی نہ ہو

«درد کی دھوپ میں آ بیٹھیں تو جانا ہی نہ ہو» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

درد کی دھوپ میں آ بیٹھیں تو جانا ہی نہ ہوجو بھی موسم ہو یہ ملبوس پرانا ہی نہ ہو

یہ دیا دست دعا ہی کا نہ ہو پیمانہیہ ستارہ مری تسبیح کا دانہ ہی نہ ہو

یوں نہ ہو خیمہ گہ خواب بلاتی رہ جائےاور اس خیمے میں اپنا کبھی آنا ہی نہ ہو

اپنی آنکھوں کی عمل داری میں رہنے دے مجھےیہ ٹھکانہ مرے ہونے کا بہانہ ہی نہ ہو

قید اٹھا کر بھی کبھی طاق طلب دیکھئے گاان چراغوں کو یہ گھر چھوڑ کے جانا ہی نہ ہو

رخصت دوست کی ساعت بھی ہے تسلیم مگراسی ساعت میں مرا سارا زمانہ ہی نہ ہو

پردہ اس دل پہ پڑا رہنے دو خاموشی کایہ کہیں اپنی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو

— شاہین عباس