7 اشعار

غیرممکن تھا چراغوں پہ گزارہ اپنا

Ghairmumkin tha chiraghon pe guzara apna

غیرممکن تھا چراغوں پہ گزارہ اپنا

«غیرممکن تھا چراغوں پہ گزارہ اپنا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

غیرممکن تھا چراغوں پہ گزارہ اپناساتھ لایا ہوں زمیں پر میں ستارہ اپنا

اب تو جس رو میں بھی ہوگی تگ و دو میں ہوگیچشم نم چھوڑ چکی کب سے کنارہ اپنا

ایک اسی خط کم آمیز پہ سرحد اپنیوہی اک منظر نادیدہ ہمارا اپنا

ہاتھ اک غار کے اندر سے بڑھا میری طرفآخر اسباب سفر سر سے اتارا اپنا

یہی بندش کہ جسے دل بھی کہیں دنیا بھیاسی اندر کی گرہ پر ہے گزارہ اپنا

اک صدا ابھری تھی سینے میں کہ پھر ڈوب گئیقافلہ چھوٹ گیا جیسے دوبارہ اپنا

عرصۂ جاں میں سہی مہلت وحشت تو ملیکوئی صحرا تو ہوا سارے کا سارا اپنا

— شاہین عباس