6 اشعار

کام الجھا ہوا ہو جاتا ہے آسان مرا

Kaam uljha hua ho jaata hai asaan mera

کام الجھا ہوا ہو جاتا ہے آسان مرا

«کام الجھا ہوا ہو جاتا ہے آسان مرا» شاہین عباس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

کام الجھا ہوا ہو جاتا ہے آسان مراپکڑا جاتا ہے کہیں جاتا ہوا دھیان مرا

جس سمے سر مرا افلاک سے ٹکرایا تھاخاک پر پاؤں پڑا تھا اسی دوران مرا

تجھ تک آیا ہوں عجب بے سروسامانی میںراستے میں کہیں بدلا گیا سامان مرا

تیرے بازاروں میں ہوتا ہوں تو یوں ہوتا ہوںورنہ اتنا بھی تماشہ نہیں آسان مرا

کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا نہ حضوری نہ غیابآئے دن آیا ہی رہ جاتا ہے طوفان مرا

دور سینوں سے گزرتی ہوئی مٹی کی لکیریہاں قابو میں نہیں خط بیابان مرا

— شاہین عباس